کتبہ: محمد امان ، اودےپور راجستھان (متعلم: جامعۃ المدینہ، فیضانِ مخدوم لاہوری، مڈاسا۔ درجہ : دورۃ الحدیث) پیر و مرشد کے حقوق آج کے دور میں شریعت کے احکام پر عمل کرنا مشکل سے مشکل تو ہوا جا رہا ہے جہاں نگاہ دوڑائی جائیں فتنہ فساد و ایمان کے لٹیرے نظر آتے ہیں ایسے میں بندے کو ایک شیخ کامل ( پیر کامل) کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ شیخ اپنے مرید کے ایمان کی حفاظت کریں اور اس کے ظاہر کو پاک و صاف کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کی بھی حفاظت کریں۔ فی زمانہ ہر کوئی اپنے آپ کو پیر بنا بیٹھا ہے اور وہ فاسق ہوتے ہیں یا ان کا سلسلہ حضور ﷺ تک نہیں پہنچتا اہسے میں بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ بیعت کس سے لی جائے پھر اگر بیعت لے لی تو پیر کی تعظیم ضروری اور فاسق کی توہین لازم۔ آئیے ہم جانتے ہیں کہ آخر کار پیر کون ہوتا ہے اور اس کے کیا کیا حقوق ہے۔ پیر و مرشد کی تعریف بیان کرتے ہوئے اعلی حضرت علیہ الرحمہ بیان فرماتے ہیں۔ پیر کامل وہ ہے جس میں یہ چار شرائط پائیں جائے۔ (1) شیخ کا سلسلہ باتصال صحیح ( درست واسطوں کے ساتھ تعلق) حضور ﷺ تک پہنچتا ہو۔ بیچ میں کہی منقطع (جدا) نہ ہو کہ منقطع کے ذریعے ات...
کتبہ: الماس نوری عطاری (متعلم: جامعۃ المدینہ، فیضانِ مخدوم لاہوری، مڈاسا۔ درجہ : سادسہ) حق اور باطل میں فرق بعض لوگ بےباکی اور لاعلمی کی وجہ سے یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ، بھائی! سب ٹھیک ہیں، دیوبندی لوگ بھی تو نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، دین کا کام کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ تو ان کی بارگاہ میں عرض یہ ہے کہ، پیارے بھائی! چور کبھی ظاہر نہیں کرتا کہ وہ چور ہے۔ بلکہ چور اپنے آپ کو ایسا بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے کہ کوئی گمان ہی نہ کر پائے کہ وہ چور ہے۔ جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، ان کی بارگاہ میں عرض یہ ہے کہ ایک بار آپ ان بد عقیدوں کی ان عبارتوں کا مطالعہ کریں، اور بغور مطالعہ کریں، جن میں انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ، حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام، ملائکہ اور انبیاءِ کرام کی شان میں گستاخیاں کی ہیں۔ تو اگر آپ انصاف بھرے دل سے مطالعہ کریں گے تو آپ یقیناً ان کو گمراہ کہیں گے۔ اور ہمارا دیوبندیوں یا ان جیسے گمراہ لوگوں سے جو اختلاف ہے، وہ اس وجہ سے تھوڑی نہ ہے کہ یہ لوگ فاتحہ نہیں کرتے، سلام نہیں پڑھتے۔ بلکہ ان لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف اور صرف انہی عبارتوں کی ...
سستا نکاح، مہنگی نمائش کتبہ: محمد مناظر حسین بہار (20/رمضان المبارک/1446) نکاح نفس کی تسکین کا ذریعہ ہے۔ یہ گناہوں سے بچاتا ہے، نگاہوں کی حفاظت کرتا ہے، نیکیوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے، اور انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔ بقائے نسلِ انسانی کا باعث ہے۔ اگر حکمِ نکاح نہ ہوتا، تو زنا عام ہو چکا ہوتا۔ نکاح دو خاندان کو آپس میں جوڑتا ہے۔ نکاح اس عقد کو کہتے ہیں جس کے بعد مرد و عورت کے لیے آپس میں تعلقات جائز ہو جاتے ہیں۔ جب کسی شخص میں مہر و نفقہ کی استطاعت ہو، اور گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو، تو اس پر نکاح فرض ہو جاتا ہے۔ لیکن افسوس! آج ہمارے معاشرے میں جب نکاح کا تصور ذہن میں آتا ہے تو چہرے پر اداسی چھا جاتی ہے۔ ایک غریب آدمی لاکھوں روپے خرچ کہاں سے لائے؟ خرچ کم کرے، تو لوگ باتیں بناتے ہیں۔ رسمیں، کھانے، مہمان نوازی، مہنگے کپڑے، مہنگی سجاوٹ — ہر چیز “ضروری” بنا دی گئی ہے۔ محلے دار، رشتہ دار، سب کی زبانیں تیز ہو جاتی ہیں۔ اور نتیجہ؟ لوگ مجبوراً سودی قرض لیتے ہیں، سالوں اسے چکاتے ہیں، اور نکاح جیسا عظیم عمل ان کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ کیا نکاح کے لیے لاکھوں ...
Comments
Post a Comment